بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایامِ حیض میں اوراد اور زبانی تلاوت کا حکم

سوال

کیا عورت حیض و نفاس میں درود شریف کلمہ طیبہ پڑھ سکتی ہے؟

نیز قرآنی آیات کی تلاوت بغیر دیکھے کرسکتی ہے ؟

جواب

حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے ذکر واذکار مثلاً درود پاک،استغفار ، کلمہ طیبہ،  پڑھنا   جائز ہے،جب کہ ایام حیض و نفاس میں قرآنی کریم کی تلاوت دیکھ کر یا بغیر دیکھے (زبانی )دونوں صورتوں میں جائز نہیں ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"( قوله : وقراءة القرآن ) أي يمنع الحيض قراءة القرآن وكذا الجنابة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: « لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئاً من القرآن». رواه الترمذي وابن ماجه''.

(باب الحیض ، ج:۱،ص:۲۰۹، ط:دارالمعرفہ بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

" فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به، كما قدمناه عن العيون لأبي الليث، وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية".

(فتاوی شامی ، ج:۱،ص:۲۹۳،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101167
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں