بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ کی قضا

?سوال

اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھ کر بعد میں بھوک کی وجہ سے توڑے ، تو اس کا کفارہ کیا ہوگا ؟

✓جواب

صورتِ  مسئولہ میں  ایک  نفلی روزہ  توڑنے پر ایک روزہ  کی صرف قضا  لازم ہوتی ہے، کفّارہ  لازم نہیں ہوتا۔

فتاوٰی شامی میں ہے:

" ومن الواجب: صوم التطوع بعد الشروع فيه، وصوم قضائه عند الإفساد."

(سبب صوم رمضان : 373ص، 3ج، ط: سعید) 

ہدایہ میں ہے:

 " "وليس في إفساد صوم غير رمضان كفارة "؛ لأن الإفطار في رمضان أبلغ في الجناية، فلا يحلق به غيره."

(باب مایوجب القضاء والکفارة : 349ص، 1 ج ، مکتبة البشرٰی)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144308101138
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں