بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے پستان سے عضو تناسل کو رگڑنا

سوال

دورانِ مباشرت بیوی کے پستان میں نفس کو رگڑنا کیسا ہے؟

جواب

مذکورہ عمل کی  گنجائش ہے۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

سوال: اپنی منکوحہ سے اس طرح بغل گیر ہونا کہ جسم کے کسی حصہ پر رگڑنے سے انزال ہو جائے تو کوئی گناہ تو نہیں ہے؟

جواب: میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بدن کو لمس کرنا درست ہے، اور لمس میں اگر انزال ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں ہے۔

(کتاب الحظر والاباحۃ، باب احکام الزوجین، جلد:17، صفحہ: 635، طبع: فاروقیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"يجوز له أن يلمس بجميع بدنه حتى بذكره جميع بدنها إلا ما تحت الإزار فكذا هي لها أن تلمس بجميع بدنها إلا ما تحت الإزار جميع بدنه ‌حتى ‌ذكره۔"

(کتاب الحیض، جلد:1، صفحہ:293، طبع:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101123
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں