بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ مبارک کہنے کا حکم

سوال

جمعہ مبارک کہنے کا کیا حکم ہے ؟کیا مبارک باد دینا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "جمعہ مبارک"  (یعنی جمعہ با برکت ہو )   بذاتہ ایک دعا ہے ،جس کے کہنے میں کوئی  حرج نہیں ہے ،البتہ اس مبارک باد دینے کا التزام واہتمام کرنا  اور مبارک باد نہ دینے والے کو برا سمجھنا اوراس کو برا  کہنا درست  نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والتهنئة بتقبيل الله منا ومنكم ‌لا ‌تنكر.

"(قوله ‌لا ‌تنكر) خبر قوله والتهنئة، وإنما قال كذلك؛ لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة، وعن مالك أنه كرهها، وعن الأوزاعي أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة، ثم ساق آثارا بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية عيد مبارك عليك ونحوه، وقال يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب لما بينهما من التلازم، فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركا على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضا."

ـ(باب العیدین،169/2،ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101121
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں