بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ کی نیت کرنے کے بعد ترک کرنے کا حکم

?سوال

نفلی روزہ کی نیت کی، پھر تھوڑی دیر بعد ترک کر دینے سے متعلق حکم بیان کر دیں؟

✓جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص صبح صادق کے بعد نفلی روزہ کی نیت  کرکےروزہ رکھے اور پھر تھوڑی دیر بعد روزہ توڑ دے تو اس صورت میں اس شخص پر اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا ، تاہم بلاعذر ایسا کرنے سے گناہ گار نہیں ہوگا، اور اگر کوئی شخص صرف روزہ کی نیت کرے کہ روزہ رکھوں گا اور باقاعدہ  وہ روزہ شروع نہ کرے تو اس صورت میں اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا كفارة ‌بإفساد ‌صوم غير رمضان كذا في الكنز."

(کتاب الصوم ،ج:۱،ص:۲۱۵،دارالفکر)

البحر الرائق میں ہے :

"ثم اعلم أن النية من الليل كافية في كل صوم بشرط عدم الرجوع عنها حتى لو نوى ليلا أن يصوم غدا ‌ثم ‌عزم ‌في ‌الليل على الفطر لم يصبح صائما فلو أفطر لا شيء عليه إن لم يكن رمضان."

(کتاب الصوم ،اقسام الصوم ،ج:۲،ص:۲۸۲،دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144308101113
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں