بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق سمجھو سے طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ اگر دس دن میں دس قرآن نہ پڑھے تو طلاق سمجھو، مگر بعد میں الفاظ واپس لے لیے،  کیا ایسی صورت میں طلاق ہوجائے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں   بیوی سے  یہ  کہنا کہ" اگر دس دن میں دس قرآن نہیں پڑھے تو طلاق سمجھو" تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو تی۔

ہندیہ میں ہے:

"امرأة قالت لزوجها: " ‌مرا ‌طلاق ‌ده " فقال الزوج: "... داده أنگار أو كرده أنگار لا يقع وإن نوى ولو قال لها بعدما طلبت الطلاق."

(کتاب الطلاق، الباب الثانی فی ایقاع الطلاق،الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ،ج1،ص380،ط: ماجدیہ)

خیر الفتاویٰ میں ہے:

"طلاق سمجھو دادہ انگار (دی ہوئی سمجھ لیں) کے مشابہ ہے، لہٰذا عورت پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔"

(ج5،ص147،مکتبہ امدادیہ ملتان)

امدادالاحکام میں ہے:

"ان الفاظ میں باوجود نیت کے فقہاء نے عدمِ وقوعِ طلاق کی تصریح فرمائی ہے، کیوں کہ یہ لفظ معنی وعدہ میں صریح ہے،جس کی نظیر یوں ہے کہ کوئی سوالِ طلاق کے بعد یوں کہے "طلاق کنم طلاق کنم" تو اس سے بمعنی وعد کے وقوع نہ ہوگا۔"

(ج2،ص432، مکتبہ دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101108
تاریخ18-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں