بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے مطالبے پر شوہر کے ’’میں تمہیں چھوڑتا ہوں‘‘ کہنے کا حکم

سوال

میاں بیوی کی لڑائی میں میسجز پر شوہر بیوی کو برے اور نامناسب الزامات لگائے، پھر بیوی شوہر سے کہے کہ مجھے طلاق دے دو، پھر شوہر جواب میں ’’صحیح ہے، میں تمہیں چھوڑتا ہوں‘‘ کہے تو کیا طلاق ہوجاتی ہے؟ اور ہوتی ہے تو کون سی طلاق ہوتی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے۔ دوبارہ ساتھ رہنے کی صورت یہ ہے کہ شوہر عدت کے اندر قولی یا فعلی طور پر رجوع کرلے اور اگر عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدت کے بعد دونوں کی رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر لیا جائے۔ رجوع یا تجدیدِ نکاح کی صورت میں شوہر کو آئندہ دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر."

(۳ ؍ ۲۴۸، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101098
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں