بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر جب مقیم لوگوں کو نماز پڑھائے گا تو کتنی رکعتیں پڑھائے گا؟

سوال

 مسافر  شخص مقیم آدمی  کو عصر کی نماز میں کتنی رکعات پڑھاسکتاہے؟  ہم لوگ رائیونڈ سے  چلے  کی جماعت سے  نکلے ہیں  37 دن کی تشکیل میں۔

جواب

مسافرآدمی  جب  مقیم لوگوں  کو عصر  کی نماز یا کوئی بھی چار رکعات والی نماز پڑھا ئے گا تو  دو رکعات ہی  پڑھائے گا۔امام کے  سلام پھیرنے کے  بعد مقیم مقتدی کھڑے ہوکر  اپنی بقیہ نماز اکیلے اکیلے پورا کریں گے اور اس میں قراءت نہیں کریں گے۔

اگر آپ کی تشکیل ایک ہی شہر یا ایک ہی بڑی بستی میں نہیں ہے تو آپ مسافر ہوں گے۔

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"(قوله: وإذا صلى المسافر بالمقيمين صلى بهم ركعتين، ثم أتم المقيمون صلاتهم) يعني: وحدانا ولا يقرءون فيما يقضون؛ لأنهم لاحقون".

(الجوهرة النيرة: كتاب الصلاة، باب المسافر (1/ 87)، ط. المطبعة الخيرية، الطبعة الأولى: 1322هـ)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101094
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں