بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کا حکم

سوال

عقیقہ کرنا کیا لازمی ہے ؟اگر عقیقہ نہ کیا جائے تو کیا گناہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صاحبِ استطاعت شخص کا عقیقہ کرنا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں ہے ،عقیقہ کرنا اولیٰ و افضل ہے  ،عقیقہ کرنے سے بچہ آفات اور بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے،اور  جو استطاعت کے باوجود عقیقہ نہ کرے  اس پر  کوئی  گناہ نہیں ہے ۔ 

مشكاة المصابيح ميں هے:

"وعن الحسن عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الغلام مرتهن بعقيقته تذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه."

ترجمہ:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہر بچہ اپنےعقیقہ کے بدلے گروی ہوتاہے ،اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے،  اس کا نام رکھا جائےاوراس کا سر مونڈا جائے۔"

(باب العقیقۃ،1207/2،ط:المکتب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"يستحب لمن ولد له ولد ۔۔۔ ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة علي ما في جامع المحبوبي أو تطوعا علي ما في شرح الطحاوي."

(كتاب الاضحیۃ ،336/6،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101081
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں