بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پندرہ شعبان کے روزے کے بارے میں حدیث کا حوالہ

سوال

پندرہ شعبان کےروزےکے بارے میں آپ  حضرات نے جو فتوی دیا ہے ،  اُس میں جو حدیث ہے،اُس کا  حوالہ چاہیے۔

جواب

پندرہ شعبان کے روزے کے متعلق ہمارے دار الافتاء سے جو فتوی جاری ہوا ہے، اُس میں "سنن ابن ماجه"  میں  مروی حضرت علی رضی  اللہ عنہ کی ایک  روایت بیان کی ہے،جس  کے اصل الفاظ ، اُن کا ترجمہ اور مکمل حوالہ  درج ذیل ہے:

"  حضرت  علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جب نصف شعبان کی رات ہو تو  اس رات کو عبادت کرو اور دن كوروزہ رکھو، اس لیے کہ اُس رات میں اللہ تعالی  غروبِ شمس سے طلوعِ فجر تک آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان فرماتے  ہیں :’’ہے کوئی مغفرت کا طلب گار کہ میں اس کی مغفرت کروں!  ہے کوئی روزی کا طلب گار  کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اس کو عافیت دوں  ! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا!(یوں مختلف اعلانات فرماتے ہیں) یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔"

"سنن ابن ماجه"میں ہے:

"عن عليِّ بن أبي طالبٍ-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم -: "إذا كانتْ ليلةُ النصف من شعبانَ فقومُوا ليلَها وصومُوا نهارَها، فإنّ الله ينزِلُ فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: أَلا من مستغفِرٍ لي فأغفِرَ له، أَلا مسترزِقٍ فأرزُقَه، أَلا مُبتلًى فأُعافيَه، أَلا كذا أَلا كذا، حتّى يطلعَ الفجرُ".

(أبواب إقامة الصلوات والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، ج:2، ص:399، رقم:1388، ط:دار الرسالة العالمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101071
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں