بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باپ کی میراث کو تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ

سوال

 میں نے اپنے والد کی میراث کو تقسیم کرنا ہے میرے والد کے ترکے میں دو عدد مکان اور پچاس کنال زمین ہے اسے کیسے تقسیم کیا جائے میت کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں والد مرحوم کی میرث کو تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ کار یہ ہے، کہ سب سے پہلے مرحوم  کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین  کے اخراجات نکالے جائیں گے، اس کے بعد اگر اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے تو اس کو باقی کل ترکہ میں سے ادا کرنے کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کو باقی ترکہ کے ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد ، بقیہ کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 7 حصوں میں تقسیم کرکے 2 حصے ہر ایک بیٹے کو ،اور 1 حصہ بیٹی کو ملے گا۔

میت:سائل کا والد، مسئلہ:7

بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
2 2 2 1

یعنی % 100   میں سے %28.571  ہر ایک بیٹے کو، اور%14.285  بیٹی کو ملے  گا۔

پچاس کنال زمین میں سے 14.285 کنال ہر ایک بیٹے کو، 7.142 کنال زمین بیٹی کو ملے گی۔

وضح رہے کہ تقسیم تو مذکورہ بالا طریقے کے مطابق ہوگی لیکن  زمین کے محل وقوع کے اعتبار سے قیمتوں میں فرق ہوتا ہے ، لہذا علاقے  کے ماہر  افراد سے تقسیم کرائی جائے تاکہ  برابری ملحوظ  رہے اور کسی کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101070
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں