بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بھول کرناپاکی کی حالت میں اذان دینا

سوال

سوال یہ ہے کہ ناپاکی کی حالت میں بھولے سے اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  حدث اکبر والی ناپاکی یعنی جنابت کی حالت میں اذان دینامکروہ تحریمی ہے ، اگرکسی نے مذکورہ  ناپاکی کی حالت میں اذان دی تواس میں فقہائے کرام کی آراء مختلف فیہ ہیں ،مفتی بہ قول کےمطابق اذان اداہوجائےگی ،لیکن اس کااعادہ  مستحب ہےاوراگربےوضوء اذان کہے توبلاکرہت اداہوجائےگی ،البتہ اس کی عادت بناناٹھیک نہیں ہے۔

الدرمع الرد میں ہے:

"(ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه)۔۔۔(قوله: ويكره أذان جنب) لأنه يصير داعيا إلى ما لا يجيب إليه، وإقامته أولى بالكراهة. وصرح في الخانية بأنه تجب الطهارة فيه عن أغلظ الحدثين. وظاهرہ أن الكراهة تحريمية بحر۔۔۔ويعاد أذان جنب) ندبا، وقيل وجوبا۔۔۔وعلل الوجوب في الكل بأنه غير معتد به والندب بأنه معتد به إلا أنه ناقص، قال وهو الأصح."

(ج،1،ص، 392،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101048
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں