بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گورنمنٹ ملازم کے انتقال کے بعد سرکار سے ملنے والی مراعات کا حکم

سوال

 کیا سرکاری ملازم کی وفات پر وراثت میں حصہ کے علاوہ پنش اور واجبات جو اس کی بیوہ کو سرکار کی طرف سے ملتے ہیں؟ وہ شریعت کے مطابق بیوہ ہی کا حق ہے یا ورثاء  میں تقسیم ہوں گے ۔  واجبات کی تفصیل یہ ہے: پنشن، گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ، تنخواہ ، پلاٹ، یا کوئی اور مراعات وغیرہ ۔  برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں:

۱)  پراویڈنٹ  فنڈ  اور  سرکاری ادارہ  پر مرحوم کی واجب الادا  تنخواہ میراث  میں ورثاء کے شرعی حصوں کے مطابق  تقسیم ہوگی اگرچہ وہ سرکار نے مرحوم کی بیوہ کو ہی دی ہو  ۔

۲) گریجویٹی  اور  پینشن جب سرکار نے بیوہ کے نام جاری کی ہے تو وہ صرف بیوہ کو ہی ملے گی، اس مین ورثاء کا حق نہیں ہوگا؛ کیوں کہ  یہ سرکاری ادارہ کی طرف سے بیوہ کے لیے تبرع و احسان ہے۔

۳) پلاٹ اگر مرحوم کی زندگی میں مرحوم کا نہیں تھا اور ان کے انتقال کے بعد سرکار نے صرف مرحوم کی بیوہ کو دیا ہے تو پھر اس میں بھی صرف بیوہ کا حق ہوگا ،ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا۔

نوٹ: اس کے علاوہ جو مراعات ہیں ان کی تفصیل بتا کر معلوم کرلیں۔ 

وفی الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

‌‌  "الإرث لغةً: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. و فقهاً: ما خلفه الميت من الأموال و الحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الفصل الاول، تعریف علم المیراث ج نمبر 10، ص نمبر  7697،دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية."

(کتاب الھبة ج نمبر ۴ ص نمبر ۳۷۸،دار االفكر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308101003
تاریخ17-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں