بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

سوال

میرا ایک بیٹا ہے ، میرے شوہر کی بہن نے اس کو اپنا دودھ چمچ کے ذریعے پلایا ہے، اور میرے شوہر کی بہن کے بیٹے کو میں نے دودھ پلایاہے،میرا ایک اور بیٹا ہے، جس کو میرے شوہر کی بہن نے دودھ نہیں پلایا، میں اپنے شوہر کی بہن کی بیٹی سے اس کا نکاح کرانا چاہتی ہوں، اس لڑکی کوبھی میں نے دودھ نہیں پلایا۔

کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کا وہ بیٹا جسے آپ کے شوہر کی بہن نے دودھ نہیں پلایا اور آپ کے شوہر کی بہن کی بیٹی جسے آپ نے دودھ نہیں پلایا، ان دونوں کا آپس میں نکاح درست ہے ، اس لیے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔

البحرالرائق میں ہے :

"قوله ( وتحل أخت أخيه رضاعا ) يصح اتصاله بكل من المضاف والمضاف إليه وبهما كما قدمناه في نظائره فالأول أن يكون له أخ من النسب ولهذا الأخ أخت رضاعية والثاني أن يكون له أخ من الرضاع له أخت نسبية."

(البحرالرائق، کتاب الرضاع، ج:۳،ص:۲۴۴،ط:دارالمعرفۃ)

فتاوی شامی میں ہے :

"(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية."

(فتاوی شامی ، باب الرضاع، ج:۳،ص:۲۱۷،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144308100906
تاریخ15-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں