بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ عدت کے بعد مرحوم شوہر کے بھائی کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے مرحوم شوہر کی میراث سے محروم نہیں ہوتی

سوال

 اگر بیوہ اپنے مرحوم شوہرکے بھائی سے عدت کے بعد نکاح کر لے تو وہ پہلے خاوند کی میراث سے محروم ہو جاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بیوہ عدتِ وفات کے بعد اپنے مرحوم شوہر کے بھائی کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے شوہر کی میراث میں اپنے شرعی حصے سے محروم نہیں ہوتی، بلکہ اس کا اپنا حصہ برقرار رہتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے:

"وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْ دَيْنٍ."

ترجمہ:"اور ان بیبیوں كو  چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ، اگر تمہاری کچھ اولاد نہ ہو، اور اگر تمہاری کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ سے آٹھواں حصہ ملے گا وصیت نکالنے کے بعد کہ تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین کے بعد۔"(بیان القرآن)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100859
تاریخ15-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں