بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچہ کا اذان دینا

سوال

نابالغ بچے کا اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں افضل یہ ہے کہ اذان  بالغ مرد یابالغ لڑکا ہی دے، البتہ ایسالڑکا جو بلوغت کے قریب ہو وہ بھی اذان دے سکتا ہے۔لیکن نابالغ ناسمجھ بچے کا اذان دینا مکروہ ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے :

"(ويجوز) بلا كراهة (أذان صبي مراهق).

(قوله: بلا كراهة) أي تحريمية؛ لأن التنزيهية ثابتة؛ لما في البحر عن الخلاصة: أن غيرهم أولى منهم."

(1/ 391)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100824
تاریخ15-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں