بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چند سورتیں یاد ہوں تو تراویح کیسے پڑھے؟

سوال

اگر تراویح میں صرف چند سورتیں ہی آتی ہو تو کیا کریں؟

جواب

 تراویح کی نماز  جماعت کے ساتھ ادا کرنا  سنت مؤکدہ  ہے ، اور تراویح میں  مکمل قرآن کریم سننا  بھی سنت ہے،  تراویح میں قرآن کریم سننے   کا بڑا ثواب ہے،     لہذا      تراویح کو جماعت  کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام ہونا چاہیے، البتہ اگر کوئی  شخص بیمار ہو یا کوئی اور  شرعی عذر ہو تو پھر جتنی سورتیں یاد ہوں انہیں سورتوں سے تراویح  پڑھے۔

البحر الرائق میں ہے:

"وفي التجنيس ثم بعضهم اعتادوا قراءة {قل هو الله أحد} في كل ركعة وبعضهم اختاروا قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن، وهذا حسن؛ لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات، ولا يشتغل قلبه بحفظها فيتفرغ للتدبر والتفكر اهـ".

(كتاب الصلاة، باب التراويح (2/ 74) ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100811
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں