بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران سلام کرنا

سوال

نماز کی حالت میں سلام کرنا کیسا ہے؟

جواب

نماز میں کسی شخص کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز نہیں، نماز فاسد ہوجائے گی۔

حدیث مبارک ہے:

"إن هذه الصلاة ‌لا ‌يصلح ‌فيها ‌شيء ‌من ‌كلام ‌الناس، إنما هو التسبيح والتكبير وقراءة القرآن."

(الصحيح لمسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب تحريم الكلام في الصلاة، ونسخ ما كان من إباحته،رقم الحديث:537)

الدر المختار میں ہے:

"(بخلاف السلام على إنسان) للتحية، أو على ظن أنها ترويحة مثلا، أو سلم قائما في غير جنازة (فإنه يفسدها) مطلقا، وإن لم يقل عليكم (ولو ساهيا) فسلام التحية مفسد مطلقا.... (ورد السلام) ولو سهوا (بلسانه)."

(كتاب الصلاة، ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 615/1، سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100805
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں