بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیر ڈارھی والے کی اقتدا کا حکم

سوال

بغیر ڈاڑھى والے  شخص کی امامت  میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  اگر کسی شخص کی ڈآڑھی  قدرتی طور پر نہ ہو تو اس کی امامت کرانا بلا کراہت جائز ہے، لیکن اگر کوئی شخص ڈاڑھی منڈھواتا ہو یا کٹواکر ایک مشت سے کم کرتا ہو تو اس کی امامت میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔

رد المحتار میں ہے:

''صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة.

(قوله: نال فضل الجماعة) أفاد أن الصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لاينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي» قال في الحلية: ولم يجده المخرجون نعم أخرج الحاكم في مستدركه مرفوعًا: «إن سركم أن يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم، فإنهم وفدكم فيما بينكم وبين ربكم. اهـ"

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:562، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100797
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں