بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میرال نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا میرال نام رکھنا درست ہے؟

جواب

"میرال" نام عربی ، اردو اور فارسی میں مستعمل نہیں ،عربی، فارسی، اردو  لغات میں  یہ لفظ  نہیں ملا، البتہ "میرال"  ترکی  زبان  کا لفظ ہے، جس کے معنی "غزال" یعنی ہرنی کے ہیں،  میرال نام رکھنا اگرچہ  درست ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر لڑکے کا نام رکھنا ہو تو انبیاء علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا بامعنی اچھا نام رکھا جائے،اور اگر لڑکی کا  نام رکھنا ہو تو  صحابیات رضی اللہ  عنہن کے اسماء میں سے کوئی نام یا بامعنیٰ اچھا نام رکھا جائے۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌ولد ‌له ‌ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه".

(کتاب النکاح، باب الولي في النكاح، الفصل الثالث، ج:2، ص:939، رقم:3138، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ:"حضرت ابو سعید اور  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: جس کے ہاں پچے کی پیدائش ہوجائے تو اسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اس کو ادب سیکھائے، پھر جب بالغ ہو تو اس کی شادی کرائے، اگر بالغ ہوا اور اس (باپ) نے اس کی شادی نہ کرائی اور وہ کسی گناہ میں مبتلا ہوا تو اس کا گناہ والد پر ہوگا۔"

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100795
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں