بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس چیز سے منفعت ممکن نہ ہو اس کو کرایہ پر دینا

سوال

بلڈنگ ابھی زیرِ تعمیر ہے اور اسٹرکچر تیار ہو چکا ہے تو کیا کمپنی اس کا کرایہ لے سکتی ہے جبکہ ابھی اس ڈھانچہ سے کوئی منفعت بھی حاصل نہیں کی جا سکتی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں   ایسی بلڈنگ جس کا ڈھانچہ تیا ر ہے لیکن ابھی تک کسی قسم کی منفعت حاصل نہیں کی جاسکتی  ہے تو ایسی بلڈنگ کو کر ایہ پر دینا لینا بے مقصد ہے  اور اس کا کرایہ داری کا معاملہ کرنا اجارہ فاسدہ میں شمار ہے اس لیے اس کا کرایہ  وصول کرنا جائز نہیں ہے ۔

مجمع الأنهر میں ہے:

"(هي) أي الإجارة (بيع منفعة) احتراز عن بيع عين (معلومة) جنسًا وقدرًا (بعوض)."

(کتاب الاجارۃ، 2/ 368)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے :

"وشرعاً (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثياباً أو أواني؛ ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو داراً لا ليسكنها أو عبداً أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين".

(کتاب الاجارۃ،6 / 4 ط سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100776
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں