بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے زکات وصول کرنا جائز نہیں

سوال

اگر ایک عورت صاحب ِنصاب ہو، لیکن ساتھ میں کوئی نقد مال نہ ہو  اور اس کے شوہر پر قرض ہو، لیکن شوہر تنخواہ دار ہو تو اگر شوہر اپنی تنخواہ کے پیسے قرض ادا کرنے کے لیے اپنی بیوی کو دے کر واپس اپنی بیوی سے زکوۃ لے سکتا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں شوہر کا بیوی کے پیسوں سے زکات وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

اللباب في شرح الكتاب  میں ہے :

"ولا تدفع المرأة إلى زوجها عند أبي حنيفة."

(كتاب الزكاة، باب من يجوز دفع الصدقة إليه ومن لا يجوز، ج1، ص155، المكتبة العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100772
تاریخ14-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں