بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے بعد دعا مانگنے کا حکم

سوال

فرض نماز کے بعد دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نماز کے بعد دعا مانگنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ ایک مستحسن، مرغوب ومسنون عمل ہے، حدیث شریف میں دعا کو عبادت کا مغز کہا گیا ہے، جیسے کہ مروی ہے:

"عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال الدعاء مخ العبادة".

(سنن الترمذی، أبواب الدعوات،  باب ما جاء في فضل الدعاء ، رقم الحدیث:3371، ج:4، ص:454، ط:داراحیاء التراث العربی)

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت کا مغز (حاصل ونچوڑ) ہے۔

لہذا نماز کے بعد دعا مانگنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ ادا کی گئی عبادت کے برکات سے محرومی نہ ہو۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عمر بن الخطاب، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رفع يديه في الدعاء، لم يحطهما حتى يمسح بهما وجهه»"

(أبواب الدعوات، باب ما جاء في رفع الأيدي عند الدعاء، رقم الحدیث:3386، ج:5، ص:463، ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100675
تاریخ13-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں