بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر عالم امام جمعہ کا بیان کرسکتا ہے؟

سوال

میں ایک قاری ہوں اور میں نے کئی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہےاور مسجد میں امامت کرتا ہوں کیا میں بیان کرسکتا ہوں؟

جواب

وعظ و اصلاح اصولی طور پر صاحب باطن اور حقانی علماء کا فریضہ ہے،غیرعالم عام طور پر حدود کی رعایت کرنے اور حق باطل میں تمییز کرنے سے قاصر ہوتا ہے ، صحیح علمِ دین  باضابطہ محقق علماء کی شاگردی میں کتابیں پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے (جس کی مروجہ صورت درس نظامی کا نصاب و نظام تعلیم ہے) اور بسا اوقات اکابر کی صحبت اور کتابیں پڑھنے سے بھی دین کی صحیح سمجھ بوجھ حاصل ہوجاتی ہے۔ 

لہذا  باقاعدہ عالم دین نہ ہونے کے باوجود اگر آپ  نے  صاحب ِ نسبت علماء و صلحاء کی  صحبت   و رہنمائی میں دینی کتابوں کا مطالعہ کیا ہو  اور حق و باطل میں تمییز کرنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہو اور  معتبر حوالہ جات سے تقریر کرسکتے ہوں تو آپ کے لیے جمعہ کی تقریر کرنے کی گنجائش ہوگی، بہتر یہ ہے کہ جن علماء کی صحبت و رہنمائی میں آپ نے کتابوں کا مطالعہ کیا ہو  انہیں سے اس بارے میں مشورہ کرلیں کیونکہ وہ آپ کے حالات سے بخوبی واقف  ہوں گے اور اگر آپ نے علماء و صلحاء کی صحبت  و رہنمائی میں مطالعہ نہیں کیا تو نرے مطالعے کی بنیاد پر وعظ و اصلاح کی ذمہ داری اٹھانا خطرناک ہوسکتا ہے، اس صورت میں یہ ذمہ داری کسی باشرع متدین عالم دین ہی کے سپرد کرنے میں آپ کے لیے عافیت ہے۔

  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100663
تاریخ13-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں