بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کرنے کے لیے نام رکھنا ضروری نہیں

سوال

میرے بھائی کے بیٹے کا عقیقہ ہوا،لیکن اس کا نام نہیں رکھا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بغیر نام رکھے عقیقہ ہو سکتا ہے؟ یا پھر عقیقہ کرنے کے لیے نام رکھنا ضروری ہے؟

جواب

عقیقہ کرنے کے لیے نام رکھنا ضروری نہیں،بغیر نام رکھے بھی عقیقہ ہوسکتا ہے،البتہ ساتویں دن کے اعمال میں سے یہ بھی مستحب بچے کا نام رکھا جائے۔

رد المحتار میں ہے:

"‌يستحب ‌لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة."

(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:336، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100637
تاریخ13-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں