بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال میں پانچ دن روزہ رکھنا واجب ہے یا حرام؟

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ سال میں 5 روزے واجب ہیں جس میں 2 روزے عید کے دنوں کے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی سنتے ہیں کے عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس بات کی وضاحت کریں۔

جواب

سال میں پانچ دن روزہ رکھنا واجب نہیں ، حرام ہے،  وہ پانچ دن یہ ہے: عید الفطر کے دن اور بقرہ عید کے  دن اور  ایام تشریق کے دن یعنی بقرہ عید کے بعد  متصل  تين  دن(گیارہویں بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ )، ان میں روزہ  رکھنا جائز نہیں۔ 

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما الصيام في الأيام المكروهة فمنها صوم يومي العيد وأيام التشريق."

(بدائع الصنائع: كتاب الصوم، فصل وأما شرائطها  (2/ 78)، ط.  دار الكتاب العربي، 1982م،  بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100565
تاریخ12-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں