بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بات نہ کرنے کی قسم کھائی تو میسج پر جواب دینا، کیا بات چیت کے حکم میں ہے؟

سوال

موبائل میں  قران پر ہاتھ رکھ کر نامحرم دوست سے قسم کھائی کہ اپنی پُرانی/ سابقہ دوست سے بات نہیں کروں گا اور اب جس سے قسم کھائی ہے اُس سے کوئی رابطہ نہیں رہا اور سابقہ دوست نے میسج پر ایک عزیز کی وفات پر تعزیت کی اور دُعا دی ،اب اُس سلام اور دُعا پر آمین کہنا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اسلام میں کسی اجنبیہ سے دوستی کرنا،  اس سے خلوت میں ملنا اور بے تکلفانہ بے حجابانہ باتیں کرنا جائز نہیں،  ان امور سے احتراز ضروری ہے۔جہاں تک بات مذکورہ سوال کی ہے تو محض  تحریری پیغام (ٹیکسٹ میسج) کے ذریعے اس کی دعا پر آمین کہنے سے قسم نہیں ٹوٹی۔

الدر المختار میں ہے:

"(الكلام) والتحديث (لا يكون إلا باللسان) فلا يحنث بإشارة وكتابة كما في النتف.... وفي الرد: (قوله فلا يحنث بإشارة وكتابة) وكذا بإرسال رسول."

(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الايمان، ‌‌باب اليمين في الأكل والشرب واللبس والكلام، 792/3، سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100550
تاریخ12-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں