بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسلمان عورت کا اہلِ کتاب مرد سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی مسلمان خاتون کسی اہلِ  کتاب سے  نکاح کرلے اور  اس سے ایک بچہ پیدا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

مسلمان عورت کا نکاح اہل کتاب مرد سے منعقد ہی نہیں ہوا،مذکورہ نکاح شرعا  باطل ہے،دونوں کے درمیان علیحدگی لازم ہے،علیحدگی کی صورت میں خاتون پر عدت لازم نہیں ہوگی، البتہ بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا اور  مسلمان شمار ہوگا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجوز تزوج المسلمة من مشرك ولا كتابي، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب النکاح،الباب الثانی فی بیان المحرمات،ج۱،ص۲۸۲،ط؛دار الفکر)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"قلت: وفي مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل.

(قوله: لأنه نكاح باطل) أي فالوطء فيه زنا لا يثبت به النسب، بخلاف الفاسد فإنه وطء بشبهة فيثبت به النسب ولذا تكون بالفاسد فراشا لا بالباطل رحمتي، والله سبحانه أعلم."

(کتاب الطلاق،فصل فی ثبوت النسب،ج۳،ص۵۵۵،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والولد يتبع خير الأبوين دينا كذا في الكنز."

(کتاب النکاح،الباب العاشر فی نکاح الکفار،ج۱،ص۳۳۹،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100510
تاریخ12-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں