بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈی ایس پی فنڈ پر منافع کاحکم

سوال

 میں آرمی سے ریٹائرڈ ہوں،  ہماری تنخواہ سے ڈی ایس پی فنڈ کاٹا جاتا ھے۔ اور ہر سال حکومت ہم کو کبھی 7% کبھی 10% کبھی 12% اس فنڈ پر منافع دیتی ہے۔ اب چوں کہ ہم کو یہ پیسے  ملتے ہیں۔ شریعت میں یہ پیسے ہمارے لیئے جائز ہیں یا نہیں؟ کیوں کہ یہ پیسے حکومت اپنی مرضی سے دیتی ہے۔ ہم نے کوئی ایگریمنٹ نہیں کیا ہے حکومت کے ساتھ  کہ ہمیں اتنا منافع  دیں گے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کی تنخواہ میں سے ڈی ایس پی  فنڈ کی مد میں مذکورہ کٹوتی اگر جبری ہو  تی ہے،  سائل کےکہنے اور مرضی سے نہیں ہو تی  تو اس صورت میں ریٹائر منٹ کے بعد اصل کٹوتی شدہ رقم اور اس کے ساتھ منافع کے عنوان سے جتنی رقم ملتی ہے، تمام رقم کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہے۔  اور اگر "ڈی ایس پی فنڈ "اختیاری ہے تو  سالانہ منافع کے نام پر جو رقم دی جاتی ہے وہ سود ہے، اور سود لینا جائز نہیں ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق"میں ہے:

 قال رَحِمَهُ اللَّهُ: ( وَالْأُجْرَةُ لَاتُمْلَكُ بِالْعَقْدِ بَلْ بِالتَّعْجِيلِ أو بِشَرْطِهِ أو بِالِاسْتِيفَاءِ أو بِالتَّمَكُّنِ منه ) يَعْنِي الْأُجْرَةَ لَا تُمْلَكُ بِنَفْسِ الْعَقْدِ سَوَاءٌ كانت عَيْنًا أو دَيْنًا وَإِنَّمَا تُمْلَكُ بِالتَّعْجِيلِ أو بِشَرْطِهِ أو بِاسْتِيفَاءِ الْمَعْقُودِ عليه وَهِيَ الْمَنْفَعَةُ أو بِالتَّمَكُّنِ من الِاسْتِيفَاءِ بِتَسْلِيمِ الْعَيْنِ الْمُسْتَأْجَرَةِ في الْمُدَّةِ اه ۔ (8 / 5) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100495
تاریخ12-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں