بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بالوں کے کاٹنے کی حد کہاں تک ہے؟

سوال

زیر ناف بالوں کے کاٹنے کی حد کہاں تک ہے؟

جواب

زیرِناف بالوں کے کاٹنے کے حدود  ناف  نیچے  پیڑو کی ہڈی سے لے کر اَعضاء ثلاثہ (ذکر، خصیتین اور دبر) اور اُن کے ارد گرد بال،  اسی طرح  اعضاء ثلاثہ کے برابر میں رانوں کا وہ حصہ  بھی شامل ہے، جس کے تلوث کا خطرہ ہے، الغرض جہاں تک گندگی لگنے کا خطرہ ہو وہاں تک کاٹنا چاہیے۔

حاشيۃ الطحطاوی میں ہے:

"العانة هي الشعر الذي فوق الذكر وحواليه وحوالي فرجها ويستحب إزالة ‌شعر ‌الدبر خوفا من أن يعلق به شيء من النجاسة الخارجة فلا يتمكن من إزالته بالاستجمار۔"

(کتاب الصلاة، باب الجمعة، ص:527، ط:دار الكتب)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والعانة الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها ‌شعر ‌الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر۔"

(کتاب الحج، فصل في الإحرام، ج:2، ص:481، ط:سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100376
تاریخ10-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں