آپ میری طرف سے آزاد ہو کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
سوال
شوہر نے اپنی بیوی کوکہاکہ"آپ میری طرف سے آزاد ہو" آیا اس سے طلاق واقع ہوئی یانہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں "آپ میری طرف سے آزاد ہو" کا جملہ صریح بائن ہے، اس سے نیت کے بغیر بھی ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوگیا ہے، اور بیوی حرام ہوگئی ہے، اس کے بعد رجوع کرنا جائز نہیں البتہ فریقین کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرکے رہنا جائز ہوگا اور آئندہ کے لئے شوہر کو دو طلاق کا حق ہوگا،بشرطیکہ اس سے پہلے کبھی طلاق نہ دی ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية".
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق: 2/ 252، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

