بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرط نہ پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

میں نے انکل کے ساتھ جھگڑا کیا، بعد میں میرے ابو نے مجھے ان سے معافی مانگنے کا کہا، میں نے کہا: نہیں، ابو نے کہا: تم فون کرکے معافی مانگ لو، میں نے کہا: "اگر میں نے ان کو فون کرکے معافی مانگ لی تو میرے اوپر میری بیوی طلاق ہو"، اس کے بعد میں نے انکل سے معافی بھی مانگ لی، مگر میں نےفون نہیں کیا تھا، انہوں نے خود فون کیا تھا اور میں نے معافی مانگ لی، کیا مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس شرط پر طلاق کو معلق کیا تھا، وہ اپنے انکل کو خود فون کرکے معافی مانگنا تھی، پھر چونکہ انکل نے اسے فون کیا، سائل نے فون نہیں کیا بلکہ ان کے فون کرنے پر ان سے معافی مانگ لی تو مذکورہ شرط نہیں پائی گئی، لہٰذا سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں کا نکاح بر قرار ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100352
تاریخ09-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں