نسبی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے
سوال
میرے دوسرے بھائی نے میری ممانی کا دودھ پیا ہے،اب میرے تیسرےبھائی کا میرے ماموں کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟جب کہ اس تیسرے بھائی نے اُس کا دودھ نہیں پیا ہے اور نہ ہی ماموں کی اِس بیٹی نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں سائل کے تیسرے بھائی کا اپنے ماموں کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے۔
ہدایہ میں ہے:
"(ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع) ؛ لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب وذلك مثل الأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها. (وكل صبيين اجتمعا على ثدي واحدة لم يجز لأحدهما أن يتزوج بالأخرى) هذا هو الأصل؛ لأن أمهما واحدة فهما أخ وأخت."
(کتاب الرضاع، 1/218، ط: دار إحياء التراث العربي)
فقط والله أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

