بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو جیب خرچ دینا

سوال

 میں ملک سے باہر رہتا ہوں اور یہاں جو کماتا ہوں وہ اپنے والد محترم کو بھیجتا ہوں لیکن میری بیگم اس بات سے راضی نہیں ہے ان کا مطالبہ ہے کہ میں اپنی بیگم کو الگ سے پیسے بھیجوں اور اگر میں الگ سے پیسے بھیجتا ہوں تو گھر میں  مسائل ہوتے ہیں تو کیا میں گھر والوں سے چھپا کر اپنی بیوی کو پیسے بھیج سکتا ہوں؟

جواب

 شوہر پر اپنی بیوی کا نان ونفقہ کا لازم ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل اپنی بیوی کو واجب  نان ونفقہ کے علاوہ اپنی مرضی سے علیحدہ سے رقم بھیجنا چاہے (تاکہ وہ اس رقم کو اپنی مرضی سے خرچ کرسکے)تو وہ بھیج سکتا ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان."

(الباب السابع عشر فی النفقات،ج۱،ص۵۴۴،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100171
تاریخ07-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں