بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف لفظ طلاق سوچنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی

سوال

میری حال ہی میں منگنی ہوچکی ہے، میں سرکاری ملازم ہوں ہر ماہ تنخوا والد صاحب کو دیتا ہوں، میں اکثر وسوسوں کا شکار رہتا ہوں اور میں ایسا بندہ ہوں کہ سوچ میں اپنے  آپ سے باتیں کرتا ہوں، ایک دن سوچ رہا تھا کہ والد صاحب کو کہوں گا کہ میں حق مہر ادا کرنے تک آپ کو تنخواہ نہیں دوں گا، اس سوچ میں مجھے سے لفظ : ’’طلاق‘‘  آہستہ ادا ہوا اس طرح کہ میرے زبان سے نہیں نکلا ، نہ کسی نے سنا   اور اس ماہ میں نے تنخواہ  والد صاحب کو دے دی، میری  راہ نمائی فرمائیں  اس طرح طلاق واقع ہوئی ہے کہ نہیں؟ میں بہت پریشان ہوں اور کبھی سوچتا ہوں کہ آپ نے آہستہ ادا کیا لفظ، کبھی سوچتا ہوں کہ آپ نے دل میں ادا کیا،ذہن میں طرح طرح کے وسوسے آرہے  ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا لفظِ طلاق سوچنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور  اس کی منگنی یا نکاح پر اثر نہیں پڑا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100150
تاریخ07-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں