بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جعلی نوٹ دینا

سوال

نقلی پیسے کسی کو دینا کیسا ہے؟

جواب

کسی کو نقلی پیسے اور نوٹ دینا  جعل سازی، دھوکا اور فراڈ  ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔سنن ترمذی میں یہ حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں“؛ اور اس حدیث کی بناء پر علماء کرام فرماتے ہیں کہ دھوکہ دینا حرام ہے۔

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ، مَا هَذَا؟»، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ»، ثُمَّ قَالَ: «‌مَنْ ‌غَشَّ ‌فَلَيْسَ ‌مِنَّا» وَفِي البَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الحَمْرَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ اليَمَانِ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ كَرِهُوا الغِشَّ، وَقَالُوا: الغِشُّ حَرَامٌ."

(الجامع السنن للترمذی، ابواب البیوع، ‌‌باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع،رقم الحدیث:1315)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100142
تاریخ07-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں