بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشر باغ فروخت کرنے والے پر لازم ہوگا یا خریدار پر؟

سوال

ایک آدمی نےاپناباغ دوسرےشخص پربیچاہے،باغ میں پھل ابھی کچاہے،اس باغ کاعشرخریدنےوالےپرہوگایافروخت کرنےوالےپر؟جب کہ قبضہ مکمل طورپرخریدنےوالےکےپاس ہے،جس کی قیمت قسط واراداء کررہاہے،اسی طرح پھل پکنےکےبعداس کاعشرکس پرلازم ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب باغ میں موجود درخت کا پھل ابھی کچا ہے تو ایسی صورت میں عشرخریدنےوالےپرلازم ہے،اوراس کویہ (عشر)اس وقت اداکرناپڑےگاجب پھل پک جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع"

 (کتاب الزکاۃ،ج،2/ص، 333،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144308100037
تاریخ06-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں