بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کامیاب پاکستان پروگرام سےقرض لینا کیسا ہے؟

سوال

 گھر یا پلاٹ کیلئے"کامیاب پاکستان پروگرام" سےقرض لینا کیسا ہے؟

جواب

p, s, x یعنی  پاکستان اسٹاک ایکسچینج لمیٹڈ ( pakistan stock exchage limited)ویب سائٹ پر میسر معلومات کے مطابق   "کامیاب پاکستان  پروگرام" میں  دو فیصد سود  قرض لینے والا  ادا کرے گا اور بقیہ سود حکومت ادا کرے گی، چوں کہ یہ سودی لین دین سے پاک نہیں ہے ، لہذا اس پروگرام کے تحت  قرضہ کا لین دین شرعاً ناجائز  اور حرام ہے۔

 ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ أَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة:275)

ترجمہ:” اللہ  تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرارا دیا ہے ۔“

﴿ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِه﴾ (البقرة:278)

ترجمہ:” اگر تم سودی کاروبار سے باز نہیں آؤ گے تو  اللہ  تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو"۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال هم سواء".

(أخرجه الإمام مسلم في باب لعن آكل الربا وموكله (5/ 50) برقم (4177)، ط. دار الجيل بيروت، بيروت)

ترجمہ:"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ وسلم نے سود کھانے اور سود دینے اور سودی حسابات یا تحریر لکھنے والے اور سودی لین دین پر گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں"۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102529
تاریخ04-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں