بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی پھوپھی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

کیا میں اپنےبھتیجے کا نکاح اپنی پھوپھی کی لڑکی کے ساتھ کرواسکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں والد کی پھوپھی کی بیٹی محرمات میں سے نہیں ہے، لہذاکوئی اور مانعِ نکاح مثلاً رضاعت نہ ہونے کی صورت میں اپنے والد کی پھوپھی کی بیٹی سے نكاح  کرنا صحیح ہے۔

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قَوْله تَعَالَى: {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ}. رُوِيَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ وَالسُّدِّيِّ : " أُحِلَّ لَكُمْ مَا دُونَ الْخَمْسِ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ عَلَى وَجْهِ النِّكَاحِ " .

وَقَالَ عَطَاءٌ : " أُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنْ أَقَارِبِكُمْ " . وَقَالَ قَتَادَةُ : { مَا وَرَاءَ ذٰلِكُمْ } : " مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " 

وَقِيلَ : " مَا وَرَاءِ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ وَمَا وَرَاءِ الزِّيَادَةِ عَلَى الْأَرْبَعِ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ نِكَاحًا أَوْ مِلْكَ يَمِينٍ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ عَامٌّ فِيمَا عَدَا الْمُحَرَّمَاتِ فِي الْآيَةِ وَفِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ."

(أحکام القرآن، ج:2، ص:175، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102527
تاریخ04-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں