بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خوشی کے موقع پر ہار پہنانے کا حکم

سوال

فارغ التحصيل طلباء کو ہار پہنانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ فارغ التحصیل طلبہ کے لیے یا کسی اور خوشی کے موقع پر ہار پہنانا شرعاً ممنوع نہیں ہے، البتہ اسے لازم نہ سمجھا جائے اور اس میں اسراف اور فضول خرچی کے ارتکاب سے بچا جائے۔

احسن الفتاوی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

اظہارِ  مسرت و شکرنعمت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے مگر اس میں غلو کرنا جائز نہیں ، نیز اس قسم کی چیزیں ابتداءً صحیح نیت سے انفرادی طورپر شروع ہوتی ہیں، آگے چل کر باقاعدہ رسم کی شکل اختیار کرجاتی ہیں اور  ان کا التزام ہونے لگتا ہے جس میں کئی قباحتیں اور ناجائز امور بھی شروع ہوجاتے ہیں، ان کے سد باب کےلیے ایسے امور سے احتراز ضروری ہے۔

(ج:8، ص:153، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102502
تاریخ04-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں