بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گھر یا دکان کو کبوتر وغیرہ کے گھونسلوں سے صاف کرنے کا حکم

سوال

گھریا  دکان اگر خریدیں یا کرایے پر لیں،  اور وہ پہلے سے غیر آباد ہو،  تو عموماً  وہاں کبوتر بسیرا کر لیتے ہیں اور انڈے دیتے ہیں  گھونسلہ بنا کر،  تو اس کا کیا حکم ہے کہ صفائی  کی نیت سے ان انڈوں کو تلف کر سکتے ہیں ؟ اگران میں سے چھوٹے  بچے نکل گئے  تو ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کبوتر وغیرہ جب کسی گھر یا دکان میں گھونسلا بنائے اور اس میں انڈے دےدے  یا اس کے بچے ہوجائيں تو صفائی کی نیت سے اسے ضائع  نهيں کرناچاهيے، بلکہ اگر اسی جگہ رکھنا ممکن ہو تو بہت بہتر ، ورنہ  قريب ميں کسی ایسی جگہ  ميں منتقل کردیے جائیں، جہاں وہ محفوظ رہیں اور پرندے اپنے انڈوں کے پاس اور اپنے گھونسلے میں آ، جاسکیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله ولا ينبغي الكتابة على جدرانه) أي خوفا من أن تسقط وتوطأ بحر عن النهاية (قوله خفاش) كرمان: الوطواط قاموس (قوله لتنقيته) جواب سؤال؛ حاصله أنه قال - صلى الله عليه وسلم - «أقروا الطير على مكانتها» فإزالة العش مخالفة للأمر فأجاب بأنه للتنقية وهي مطلوبة، فالحديث مخصوص بغير المساجد ۔"

(‌‌كتاب الصلاة‌‌، باب ما يفسد الصلاة، ج:1، ص:663، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102428
تاریخ03-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں