بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کا خطبہ تلاوت کے انداز میں پڑھنا

سوال

جمعہ کا خطبہ قرآن کی تلاوت کی طرح پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں خطبہ میں    قرآن مجید کی آیات اور احادیث اور دعائیں   پڑھی جاتی ہیں؛ لہذا خطیبانہ انداز میں پڑھنا  زیادہ مناسب ہے،  باقی  عجم خطبہ کو   تلاوت کے انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔

صحیح مسلم میں ہے :

"عن جابر بن عبد الله، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خطب ‌احمرت ‌عيناه، وعلا صوته، واشتد غضبه، حتى كأنه منذر جيش يقول: «صبحكم ومساكم»، ويقول: «بعثت أنا والساعة كهاتين»، ويقرن بين إصبعيه السبابة، والوسطى، ويقول: «أما بعد، فإن خير الحديث كتاب الله، وخير الهدى هدى محمد، وشر الأمور محدثاتها، وكل بدعة ضلالة» ثم يقول: أنا أولى بكل مؤمن من نفسه، من ترك مالا فلأهله، ومن ترك دينا أو ضياعا فإلي وعلي."

(592/2،ط:مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102405
تاریخ03-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں