بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد میں داخل ہو کر سلام کرنا

سوال

مسجد میں نماز کے وقت کچھ لوگ ذکر و تسبیحات میں مشغول رہتے ہیں اور کچھ لوگ خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔تو ایسے وقت میں مسجد میں داخل ہونے والے اونچی آواز سے سلام کر سکتے ہیں؟ 

جواب

مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا  چاہیے، بشرط یہ کہ لوگ بیٹھے ہوئے ہوں، تلاوت یا درس وغیرہ میں مشغول نہ ہوں  اور اگر مشغول ہوں تو منع  ہے ۔البتہ  اگر  کوئی خاموش بیٹھا ہو تو اس کے پاس جا کر  آہستہ    آواز سے سلام کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ  نماز اور قرآن پڑھنے والوں تک آواز نہ پہنچے ۔

فتاوى ہندیہ میں  ہے:

"السلام تحية الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم، فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم، ولهذا قالوا: لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لايجيبوه، كذا في القنية.

يكره السلام عند قراءة القرآن جهراً، وكذا عند مذاكرة العلم، وعند الأذان والإقامة، والصحيح أنه لايرد في هذه المواضع أيضاً، كذا في الغياثية."

(5/ 325 ط: ماجدیہ)

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102366
تاریخ03-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں