بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کی حیات میں اولاد کا حصہ

سوال

ہماری والدہ محترمہ نے پہلے شادی کی ہوئی تھی،  جس سے ایک بیٹا اور بیٹی ہے،  پھر وہاں سے طلاق ہوگئی اور والدہ نے ہمارے والد صاحب سے شادی کی،  جن سے ہماری پیدائش ہوئی، اب والد صاحب کا انتقال ہوگیا،  ان کی میراث تقسیم کی تو والدہ کو ان کا حصہ مکمل دے دیا،  اب کیا والدہ کے حصہ سے وہ دو بھائی بہن جو والدہ کی پہلی اولاد ہیں اُن کو اِس میں سے حصہ ملےگا؟ جب کہ بھائی زندہ ہے اور بہن کا انتقال ہوگیا ہے اور اس کے بچےہیں، اگر ملےگا تو کیا صورتِ حال ہے اور اگر نہیں ملےگا تو کیا صورتِ حال ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی والدہ کی حیات میں ان کی کسی اولاد کا ان کی جائے داد میں کوئی حصہ نہیں، اور ان کے انتقال کی صورت میں ان کی ساری اولاد کا ان کی جائے داد میں حصہ ہو گا، یعنی آپ کی ماں شریک اولاد بھی حصہ دار ہو گی، تاہم جس بہن کا انتقال والدہ سے قبل ہو چکا اس کا والدہ کے ترکہ میں کوئی حصہ نہ ہو گا۔

پھر والدہ کی میراث کی تقسیم کا طریقہ ان کے انتقال کے بعد معلوم کیا جائے، ابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102358
تاریخ03-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں