بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر مہر ادا کیے بغیر انتقال کرجائے تو اولاد ثابت النسب ہوگی

سوال

شوہر مہر ادا  کیے بغیر انتقال کرگئے تو  اس کی اولاد کا کیا حکم ہوگا؟ یعنی حلال ہوگی یا حرام؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر مہر ادا کیے بغیر انتقال کرجائے  تو اس سے اولاد کے نسب پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اولاد کے ثابت النسب اور غیر ثابت النسب ہونے کا تعلق مہر کی ادائیگی یا عدم ادائیگی سے نہیں۔ البتہ شوہر نے  زندگی میں مہر ادا نہیں کیا اور نہ بیوی نے معاف کیا ہو تو پھر یہ مہر شوہر پر قرض شمار ہوگا اور تقسیم ترکہ سے پہلے یہ قرض ادا کیا جائے گا۔

الدر المختار میں ہے:

"ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما)."

(الدرالمختار مع رد المحتار، كتاب النكاح، باب المهر،102/3، سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102351
تاریخ03-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں