بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض مؤجل کو زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت منہا نہیں کیا جائے گا

سوال

میں نے ایک مشینری خریدی ہے اور اس کی قیمت کی چیک بناکران کو دی ہے لیکن چیک کی تاریخ رمضان کے بعد کی ہے اور میرازکوۃدینے کا وقت رمضان ہے تو کیا اس قیمت کو منہاکرکے زکوۃ اداکروں گا یا نہیں اس مشینری کی ڈلیوری کی وجہ  سے تاریخ لیٹ کی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب سائل  پر مشینری کی خریداری کی صورت میں رقم کی  ادائیگی زکوٰۃکے مہینے (رمضان)کے بعد لازم ہے تو اس رقم کوزکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت منہا نہیں کیا جائے گا بلکہ اس رقم کی زکوٰۃ بھی ادا کی جائے گی۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) سواء كان لله كزكاة وخراج أو للعبد، ولو كفالة أو مؤجلا.

(قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع."

ــ(کتاب الزکاۃ،ج۲،ص۲۶۱،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102320
تاریخ02-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں