بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

معلم قرآن كی مالی معاونت كرنا

سوال

  ایک امام صاحب کی تنخواہ  اس وقت 20000 روپے ہے ان کی رہائش اپنی ہے، ان کو پانی بجلی کا بل خود ادا کرنا ہوتا ہے جو اس وقت تقریبًا 6000 روپے تک آتا ہے۔ مسجد کے دوسرے فلور پر ایک حفظ قرآن پاک کی کلاس  پڑھاتے ہیں۔ سیکڑوں بچے قرآن پاک حفظ کرکے وفاق کا امتحان دے کے کامیاب ہوچکے ہیں۔ بچوں کے والدین بحثیت استاذ سمجھتے ہوئے امام صاحب کی مالی معاونت کرتے رہتے ہیں اور کچھ والدین نہیں بھی کرسکتے تو کوئی  تقاضا نہیں کیا جاتا اور مسجد کی طرف سے بچوں کو پڑھانے کی کوئی تنحواہ  نہیں ملتی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ معاونت امام صاحب کے لیے جائز ہے یا     نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر بچوں کے والدین امام صاحب  کے ساتھ  ان کے تقاضے کے بغیر  ازروئے  محبت و الفت  کچھ مالی معاونت کرتے ہیں تو امام صاحب کے لیے اس مالی معاونت کو قبول کرنا جائز ہے ۔

نیز مسجد کمیٹی اور اہل محلہ کی ذمہ داری  بھی ہے کہ وہ امام صاحب کی ضروریات کا خیال رکھیں، تاکہ امام صاحب یکسوئی کے ساتھ مسجد میں وقت دے سکیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے :

"و إن أهدي إليهم تحببًا و تودّدًا لعلمهم و صلاحهم فالأولى القبول."

(کتاب القضاء مطلب فی حکم الھدیة للمفتی:ج5ص373ط سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102238
تاریخ01-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں