بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ضرورت سے زائد پلاٹ پر زکات کا حکم

سوال

  پوچھنا یہ ہے کہ میری اہلیہ کے نام پانچ مرلے کا  ایک پلاٹ ہے۔ جو اسکے والدین نے اسے دیا ہے۔ کیا اس پہ زکواٰۃہوگی؟  جبکہ اس کے پاس جو سونا ہے اس پہ زکوٰۃ دے رہے ہیں۔ ہمارا اپنا گھر ہے وہ پلاٹ نہ بنانے اور نہ بیچنے کا ارادہ ہے۔

جواب

صورتٍ مسؤلہ میں سائل کی اہلیہ کو اس اس کے والدین نے ھدیۃًمذکورہ پلاٹ دیا ہے ،اس پلاٹ پر زکوٰۃ  واجب نہیں ہے۔

ردالمحتارمیں ہے:

"ولا فی ثیاب البدن  واثاث المنزل ودورالسکنی ونحوہا اًی کثیاب  البدن الغیر المحتاج اٍلیھاوکالحوانیت والعقارات۔"

(کتاب الزکوۃ،ج:2،ص:264،ط  :ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102162
تاریخ01-03-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں