بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرمگاہ کو بغیر حائل کے چھونے سے وضو کا حکم

سوال

کیا شرمگاہ کو بغیر کسی کپڑے/  حائل کے چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

شرم گاہ  کو بغیر حائل کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ حدیثِ مبارک  میں آتا ہے کہ  ایک آدمی نے  نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے اگر کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے تو وضو کرے؟ تو  نبی ﷺ نے فرمایا:  شرم گاہ بھی تمہارے جسم کا ایک حصہ ہی ہے۔ البتہ بغیر حائل شرم گاہ چھولینے کے بعد ہاتھوں کا دھو لینا مستحب ہے، جیساکہ فقہاء نے ذکر کیاہے، اور بعض فقہاء نے فرمایا کہ اگر پانی سے استنجا نہ کیا ہو، بلکہ پتھر، ڈھیلے یا ٹشو وغیرہ سے استنجا کیا ہو اور ناپاکی ہاتھ پر نہ لگی ہو تو  اس کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔

وفي مسند أحمد:

"عن قيس بن طلق، عن أبيه قال: سأل رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم أيتوضأ أحدنا إذا مس ذكره؟ قال: «إنما هو بضعة منك أو جسدك»".

(26/ 214الناشر : مؤسسة الرسالة)

وفي المبسوط للسرخسي:

"وکذلک إن مسّ ذکره بعد الوضوء فلاوضوء علیه، وهذا عندنا، وکذلک إذا نظر إلی فرج امرأة". 

( کتاب الصلاة، باب الوضوء والغسل، 1/183- ط: رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102071
تاریخ28-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں