بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منکوحہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی

سوال

میری عمر 26 سال ہے ، میں ایک ڈاکٹر ہوں، آج سے کچھ سال پہلے مجھے ایک لڑکا  پسند تھا اور محبت میں اس سے نکاح کرلیا، اس واقعہ کو  تین سال ہوگئے، مگر ہمارا کوئی میاں بیوی والا رشتہ نہیں ہوا، گھر میں کسی کو نہیں پتہ،اب مسئلہ  یہ ہےکہ میرے گھر والے میری شادی کہیں اور کروارہے ہیں اور جس سے نکاح کیا وہ مجھے پسند نہیں اور نہ وہ علیحدگی دے رہاہے، تواس کا حل کیا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا گزشتہ نکاح  باقاعدہ شرعی گواہوں (دومردوں یاایک مرداور دو عورتوں)کی موجودگی میں ایجاب وقبول کےساتھ ہوا تھاتووہ نکاح صحیح منعقد ہواتھا، اس کے برقرار رہتے ہوئے سائلہ  کےلیے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعا درست نہیں ، لہذا سائلہ کا دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها: أن لاتکون منکوحة الغیر لقوله تعالی: ﴿والمحصنٰت من النساء﴾، و هي ذوات الأزواج."

(كتاب النكاح، فصل بيان ما يرفع حكم النكاح، 548/2 ، الناشر: دار الكتب العلمية)

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لایجوز للرجل أن یتزوج زوجة غيره … کذا في السراج الوهاج."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير، 280/1  ط:دار الفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144307102001
تاریخ27-02-2022

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں